تقیہ، قیام اور الٰہی مشیت کے تناظر میں ایک تحقیقی جائزہ
واقعۂ کربلا کے بارے میں ایک سوال بارہا اٹھایا جاتا ہے کہ اگر ائمۂ اہل بیت علیہم السلام کی سیرت میں بعض مواقع پر صبر، تقیہ اور حالات کے مطابق حکمتِ عملی اختیار کرنا ثابت ہے، تو پھر امام حسین علیہ السلام نے یزید کی بیعت سے انکار کرتے ہوئے اپنی اور اپنے اہلِ بیتؑ کی جانوں کو خطرے میں کیوں ڈالا؟ کیا امامؑ کے لیے بھی تقیہ اختیار کرنا ممکن نہ تھا؟
اس سوال کا جواب اہل بیتؑ کی تعلیمات، قرآنی اصولوں اور تاریخی حقائق کے مجموعی مطالعے سے حاصل ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ائمۂ اہل بیتؑ کا ہر عمل الٰہی حکمت اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق ہوتا تھا۔ چنانچہ نہ ہر زمانے میں قیام واجب ہوتا ہے اور نہ ہر موقع پر سکوت اور تقیہ۔
تقیہ: ایک شرعی حکم، دائمی اصول نہیں
شیعہ فقہ میں تقیہ ایک مسلم شرعی حکم ہے۔ ائمۂ اہل بیتؑ نے متعدد مواقع پر اپنے شیعوں کو تقیہ کی تعلیم دی تاکہ وہ ظلم و جبر کے دور میں اپنی جان اور دین کی حفاظت کر سکیں۔
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
««التَّقِيَّةُ دِينِي وَدِينُ آبَائِي»
“تقیہ میرا اور میرے آباء کا دین ہے۔”»
(الکافی، ج 2، ص 217)
لیکن فقہائے امامیہ اس بات پر متفق ہیں کہ تقیہ مطلق اور غیر مشروط حکم نہیں۔ جب دین کی بنیادیں خطرے میں ہوں، حق کے اظہار کا وقت آ جائے، یا خداوند متعال کسی خاص بندے کے ذریعے حجت کو تمام کرنا چاہے، تو تقیہ ساقط ہو جاتا ہے۔
علامہ مجلسیؒ لکھتے ہیں:
««إذا كان في ترك إظهار الحق اندراس الدين وذهاب معالم الشريعة فلا تجوز التقية.»
“جب حق کے اظہار کو ترک کرنے سے دین کے آثار مٹنے لگیں اور شریعت کے نشانات ختم ہونے کا خطرہ ہو تو تقیہ جائز نہیں رہتا۔”»
(بحار الأنوار، ج 75)
قیام کے لیے ناصرین کا ہونا ضروری ہے
امامت کا مقصد صرف حکومت حاصل کرنا نہیں بلکہ دینِ الٰہی کی حفاظت ہے۔ اسی لیے ہر امامؑ نے اپنے زمانے کے حالات کے مطابق اقدام کیا۔
امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے اپنے حقِ خلافت کے باوجود مسلح قیام نہیں فرمایا۔ اس کی بنیادی وجہ ناصرین کی کمی تھی۔
نہج البلاغہ میں آپؑ فرماتے ہیں:
««فَنَظَرْتُ فَإِذَا لَيْسَ لِي مُعِينٌ إِلَّا أَهْلُ بَيْتِي»
“میں نے دیکھا کہ میرے پاس اپنے اہلِ بیت کے علاوہ کوئی مددگار نہیں۔”»
(نہج البلاغہ، خطبہ شقشقیہ)
اسی اصول کو امام زین العابدین علیہ السلام نے بھی واضح فرمایا۔
عباد بصری نے امام سجادؑ سے عرض کیا کہ آپ جہاد کو چھوڑ کر حج میں مشغول ہیں، جبکہ قرآن مجاہدین کی فضیلت بیان کرتا ہے۔ امامؑ نے جواب دیا:
««إِذَا رَأَيْنَا هَؤُلَاءِ الَّذِينَ هَذِهِ صِفَتُهُمْ فَالْجِهَادُ مَعَهُمْ أَفْضَلُ مِنَ الْحَجِّ»
“جب ہمیں ایسے لوگ مل جائیں جن میں قرآن کی بیان کردہ صفات موجود ہوں تو ان کے ساتھ جہاد کرنا حج سے افضل ہے۔”»
(مناقب آل ابی طالب، ج 3، ص 298؛ الاحتجاج للطبرسی)
اس روایت سے واضح ہے کہ قیام کی کامیابی کے لیے صرف حقانیت کافی نہیں بلکہ ایسے وفادار ساتھی بھی ضروری ہیں جو آخری سانس تک ثابت قدم رہیں۔
کربلا میں امام حسینؑ کو ایسے اصحاب نصیب ہوئے جن کے بارے میں خود امامؑ نے فرمایا:
««فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ أَصْحَابًا أَوْفَىٰ وَلَا خَيْرًا مِنْ أَصْحَابِي»
“میں اپنے اصحاب سے زیادہ وفادار اور بہتر اصحاب کسی کو نہیں جانتا۔”»
(الارشاد للمفید، ج 2)
یزید کا مسئلہ صرف ایک حکمران کا مسئلہ نہیں تھا
معاویہ کے بعد یزید کی حکومت ایک نئی صورتِ حال تھی۔ یزید نہ صرف فسق و فجور میں مشہور تھا بلکہ وہ خلافتِ اسلامی کو موروثی بادشاہت میں تبدیل کر رہا تھا۔
امام حسینؑ نے مدینہ کے گورنر ولید بن عتبہ کے سامنے فرمایا:
««وَعَلَى الْإِسْلَامِ السَّلَامُ إِذَا بُلِيَتِ الْأُمَّةُ بِرَاعٍ مِثْلِ يَزِيدَ»
“اسلام کو سلام ہو جائے جب امت یزید جیسے شخص کے سپرد کر دی جائے۔”»
(مقتل خوارزمی، ج 1؛ تاریخ طبری)
اس جملے سے واضح ہے کہ مسئلہ صرف بیعت کا نہیں تھا بلکہ اسلام کی بقا کا تھا۔
امام حسینؑ کا قیام ایک الٰہی مشیت
متعدد تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ امام حسینؑ اپنی شہادت سے آگاہ تھے۔
عبداللہ بن عباس اور دیگر افراد جب امامؑ کو کوفہ جانے سے روک رہے تھے تو امامؑ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہؐ کو خواب میں دیکھا ہے اور مجھے ایک امر کا حکم دیا گیا ہے جسے میں پورا کروں گا۔
شیخ مفید اور دیگر مؤرخین نے نقل کیا ہے کہ امامؑ نے فرمایا:
««إِنَّ اللَّهَ شَاءَ أَنْ يَرَانِي قَتِيلًا»
“اللہ نے چاہا ہے کہ وہ مجھے شہید دیکھے۔”»
اور اہلِ بیتؑ کے بارے میں فرمایا:
««وَشَاءَ أَنْ يَرَاهُنَّ سَبَايَا»
“اور اس نے چاہا ہے کہ انہیں اسیر دیکھے۔”»
(الارشاد، شیخ مفید؛ لہوف، سید ابن طاووس)
اس کا مطلب یہ نہیں کہ امامؑ مجبور تھے، بلکہ یہ کہ امامؑ خدا کی مشیت اور اپنے الٰہی فریضے سے مکمل آگاہ تھے۔
امامتِ حسینیؑ اور قربانی کا راز
امام حسینؑ کی قربانی کی عظمت کا ایک اہم راز ان کی نسل میں امامت کا جاری ہونا بھی ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہؐ نے حضرت فاطمہ زہراؑ کو امام حسینؑ کی شہادت کی خبر دی تو حضرت زہراؑ غمگین ہوئیں۔ اس پر رسول اللہؐ نے فرمایا:
««إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ يَجْعَلُ الْأَئِمَّةَ مِنْ وُلْدِهِ»
“اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ وہ حسینؑ کی اولاد میں ائمہ قرار دے گا۔”»
تب حضرت زہراؑ نے عرض کیا:
««قَدْ رَضِيتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ»»
(إكمال الدين وتمام النعمة، شیخ صدوق)
گویا کربلا صرف ایک شہادت نہیں تھی بلکہ ہدایتِ الٰہی کے تسلسل کی بنیاد بھی تھی۔
نتیجہ
امام حسین علیہ السلام کا یزید کی بیعت سے انکار کوئی جذباتی یا سیاسی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک الٰہی فریضہ تھا۔ دوسرے ائمہؑ نے جن حالات میں تقیہ یا صبر اختیار کیا، وہ انہی حالات کے مطابق درست اور واجب تھا۔ لیکن سنہ 61 ہجری میں دین کی بقا، امت پر حجت کے اتمام، یزیدی نظام کے حقیقی چہرے کو بے نقاب کرنے اور حق و باطل کے درمیان دائمی خطِ امتیاز کھینچنے کے لیے قیامِ حسینیؑ ناگزیر ہو چکا تھا۔
اسی لیے امام حسینؑ نے نہ صرف بیعت سے انکار کیا بلکہ اپنے خون اور اپنے اہلِ بیتؑ کی قربانی کے ذریعے اسلام کی حقیقی روح کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ہر دور میں حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کن معیار کی حیثیت رکھتی ہے